عاجزی کو چلن کیے ہوئے ہیںخاک اپنا بدن کئے ہوئے ہوں
ہجر اک مستقل لباس مراجس کو میں زیب تن کیے ہوئے ہوں
چند آنسو مرا اثاثہ ہیںجن کو میں وقف فن کیے ہوئے ہوں
آبلے اگ رہے ہیں پاؤں میںدشت سرو سمن کیے ہوئے ہوں
گھر میں رہ کر بھی گھر نہیں رہتاخود کو یوں بے وطن کیے ہوئے ہوں
موت سے پہلے مر گیا ہوں میںزندگی کو کفن کیے ہوئے ہوں
اس کا لہجہ کرخت ہو گیا ہےاور میں حسن ظن کیے ہوئے ہوں
اک تری یاد ہے جسے زاہدؔاپنے دل کی چبھن کیے ہوئے ہوں
WhatsApp us