میں کناروں کو رلانے لگا ہوںپھول دریا میں بہانے لگا ہوں
کھیل کو ختم کرو جلدی سےورنہ میں پردہ گرانے لگا ہوں
دل سے جاؤں تو بتانا مجھ کوتیری محفل سے تو جانے لگا ہوں
یوں لگی مجھ کو محبت تیریجیسے میں بوجھ اٹھانے لگا ہوں
پہلے میں اپنا اڑاتا تھا مذاقاور اب خاک اڑانے لگا ہوں
کتنی آسانی سے مارا گیا تھاکتنی مشکل سے ٹھکانے لگا ہوں
شکر ہے عشق کے سودے میں بھیاشک دو چار کمانے لگا ہوں
وقت ہوں اور بڑی مدت سےمیں ترے ساتھ زمانے لگا ہوں
ایسے خاموش ہوا ہوں زاہدؔجیسے میں بات بڑھانے لگا ہوں
WhatsApp us