کسی منظر کے پس منظر میں جا کرچلو دیکھیں کسی پتھر میں جا کر
گھنے جنگل نے مجھ پر راز کھولانکل جاتا ہے ہر ڈر ڈر میں جا کر
خود اپنی ذات ہو جاتی ہے معدومخود اپنی ذات کے جوہر میں جا کر
مرے دل کی تمنا بن گیا ہےوہ چہرہ میری چشم تر میں جا کر
سمٹ جاتے ہیں میرے ساتھ مجھ میںمرے پاؤں مری چادر میں جا کر
تحیر خیز تھی اس کی فصاحتوہ جب بھی چپ ہوا منبر میں جا کر
یہ زندہ شہر ہے تو کیسے زاہدؔمیں مر جاتا ہوں اپنے گھر میں جا کر
WhatsApp us